رابطه ـ يوم ـ جماعت فضلى ـ همارے شيخ ـ بركات اولياء ـ كتب و مضامين ـ اصلاح المسلمين ـ تصاوير ـ بيانات ـ طريقه نقشبنديه ـ پﮩله صفحه ـ English Language


مقامات فضليه


ديباچه
بسم ﷲ الرحمن الرحیم ط

الحمد للہ و کفی و سلام علٰی عبادہ اللذین اصطفٰے ۔ اما بعد آج کل اخباری اور اشتہاری پروپیگنڈہ کا زمانہ ہے ، دنیا شہرت اور اکثریت کے ساتھ چلتی ہے۔ ذاتی قابلیت و اہلیت پر لوگوں کی نظریں کم جایا کرتی ہیں خصوصًا روحانی تربیت کا سلسلہ جو کہ سطحی نظر سے دور تر اور حواس ظاہری کے ادراک سے وراءالوار ہے اور اہل دنیا کی عقلیں اس کے سمجھنے سے قاصر اور نگاہیں خیرہ ہیں، عوام کا لانعام بلکہ بہت سے خواص بھی شعبدہ بازوں اور اخباری و اور اشتہاری پروپیگنڈہ سازوں کے ساتھ لگ جاتے ہیں، ان کے تقویٰ و طہارت اور اتباع سنت کے حال سے چنداں غرض نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ اکثر بد عمل اورگمراہ لوگ خلافت شریعت وضع و قطع اور اطوارو عادات کے باوجود مرجع خلاءق و پیشواءے طریقت بنے ہوے ہیں اور فضلواواضلوا کے مصداق خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی دن رات گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ مگر جن سعادات مندوں کو حق سبحانہٰ و تعالیٰ نے بصیرت کی آنکھیں دی ہیں وہ ان ظاہری شبدہ بازیوں کو قابل التفات نہیں سمجھتےبلکہ ان کی نظریں باطن کی طرف لگی رہتی ہیں اور ایسی ہستیوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن کا پایا جانا ایک با خدا انسان میں ضروری و لابدی ہے ۔

الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ ہمارے شیخ المشاءخ عمدة الساکلین قدوة العارفین غریب نواز حضرت مولانا محمد فضل علی شاہ صاحب قریشی عباسی نقشبندی مجددی قدس سرہؒ العزیزان تمام اوصاف کے مالک اور ان منجملہ محامد و محاسن کے جامع تھے جو مدان خدا و اولیاءے با صفا میں ہونی چاہیں ۔ آپ عالم با عمل ، متبع شریعت و سنت، قامع بدعت تھے اور قناعت و توکل، ورع و تقویٰ، صدق و صفا، عفت و حیا، حلم و سخا، ایثار و وفا، ضبط و عفو، صبر و شکر، تسلیم و رضا ، غرضکہ تمام اوصاف حمیدہ کے جامع تھے۔ آپ کی مجلس میں امر بالمروف و نہی عن المنکر اور ذکر الہی کے سوا کوءی بات نہ ہوتی تھی اور مجلس سے اٹھ کر خانگی ضروریات جو حقوق العباد کے شعبہ ہے انجام دیتے تھے، آپ کی صحبت میں بیٹھنے سے خدایاد آتا تھا اور دل میں دنیا کی چرف سے بے توجہی اور لا تعلقی پیدا ہوتی تھی۔ ان ہی خصاءل حمیدہ و اتباع شریعت و پابندی اطوار طریقت کی وجہ سے اہل بصیرت طالبان حق ان کی طرف متوجہ ہوءے، ورنہ وہاں نہ کوءی کل اخباری اور اشتہاری پروپیگنڈہ تھا اور نہ ہی پیراں نمی پرند مریداں می پرانند والا قصہ تھا۔ جو کچھ تھا وہ سب داد الہی اور خلوص نیت کا ثمرہ تھا یہی وجہ ہے کہ فیض آپ سے براہراست اور آپ کے خلفاء کے واسطے سے تمام عالم اسلام میں اسقدر پھیلا کہ شاید و باید۔

جب حضرت قدوة الساکلین عمدة العارفین شیخ المشاءخ حضرت مولانا خواجہ محمد فضل علی شاہ صاحب قریشی عباسی نقشبندی مجددی نور ﷲ مرقدہ و جعل جنتہ الفردوس ماواہ و مسکنہ غرٴہ رمضان المبارک ١۳۵٤ھ کو اس دارفانی سے رحلت فرما گءے تو آپ کی سوانح حیات مع ارشادات عالیہ و رموز و نکات و تعلیمات سلوک و پندو نصاءح ۛحیات فضلیہ و ملفوظات قریشیہۛ کے نام سے آپ کے خلیفہ حضرت حضرت مولانا محمد مسلم صاحب دیوبندی ثم لاءلپوریؒ نے آپ کے وصال کے تھوڑے عرصہ بعد یعنی آج سے تقریبًا چالیس سال پہلے تالیف کر کے کورونیشن الیکٹرک پریس لاءلپور میں چھپوا کر افادہ عام کے لءے شاءع کی تھی ۔ غلبًا عجلت کی وجہ سے وہ اس تالیف کے لءے زیادہ مواد جمع نہیں کر سکے، شاید خیال ہو گا کہ اس وقت اسی قدر پر اکتفا کیا جاءے تاکہ یہ یادگار قاءم ہو کر محرومین صحبت شیخ المشاءخ موصوف و تشنگان سلسلہ کی تسکین ک باعث ہو، بعد میں مفصل حالات اضافہ کر کے دوبارہ طبع کیا جاءے، لیکن ان کی زندگی نے بھی وفا نہ کی اور جلدی ہی اس دار فانی سے رحلت فرما گءے، اسوقت سے ابتک سلسلہ عالیہ کے کسی اور صاحب کو ہمت نہ ہوءی کہ ایسے عظیم المرتبت ، فیاض عالم شیخ المشاءخ کی شایان شان حالات جمع کر کے حسن ترتیب و تالیف کے ساتھ اس کو دوبارہ شاءع کرتا۔

اب حضرت موصوف کے نواسے حضرت مولانا کلیم ﷲ شاہ صاحب مجددی فضلی غفوری مسکین پوری مدظلہ العالی نے حضرت موصوف کے خلیفہ خاص شیخ المشاءخ حضرت مولانا عبدلغفور صاحب عباسی نقشبندی مجددی فضلی مدنی قدس سرہؒ العزیز کی اجازت سے اس کتاب کی دوبارہ اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور اس کی ترمیم و اصلاح و اضافات اور جدید ترتیب کی خدمت حسب الارشاد حضرت مدنی صاحب قدس سرہؒ اس عاجز کے سپرد فرماءی، چونکہ اس زمانے کے جو حضرات ابھی حیات ہیں ان سے بھی مزید حالات کا حاصل کرنا کوششوں کے باوجود ممکن نہ ہو سکا نا چاراسی سابقہ ایڈیشن کو ہی جدید ترتیب و ترمیم و اصلاح کے ساتھ شاءع کرنے کی کوشش شروع کر دی، خوش قسمتی سے انہی دنوں میں حضرت موصوف کے خلیفہ اجل شیخ المشاءخ حضرت مولانا عبدالمالک صاحب مجددی فضلی احمد پوری مدضلہ العالی کی تالیف ۛ تجلیات ۛ شاءع ہو کر اس عاجز کو موصول ہوءی جو حضرت غریب نواز شیخ المشاءخ موصوف قدس سرہ العزیز کے کچھ حالات اور خود حضرت مولانا عبدالمالک صاحب مجددی فضلی احمد پوری مدضلہ العالی کے حالات پر مشتمل ہے اس میں بھی بعض مقامات کا اضافہ مع حوالہ جات اس کتاب میں کر دیا گیا ہے اور بعض دیگر اضافات بھی جو حضرت مولانا کلیم شاہ صاحب وغیرہ سے حاصل ہو سکے کءے گءے ، اصلاح و ترمیم بھی مولانا کلیم ﷲ شاہ صاحب کی مہیا کردہ معلومات کے مطابق کی گءی ہے۔ نیز مولانا موصوف کی خواہش کے مطابق تعویذات اردو زبان میں سلسلہ اسباق کی تشریح اور اختمات شریف بھی درج کر دءے گءے تا کہ کتاب کی افادیت میں اضافہ ہو سکے اور اب اس کو ۛ مقامات فضلیہ ۛ کے نام سے شاءع کیا جا رہا ہے۔ کچھ مضامین ایک بیاض سے لءے گءے ہیں جو کہ حضرت مولانا عزیز محمد صاحب قریشی مدضلہ العالی سے موصول ہوءی تھی اور اس کے حوالہ کے لءے ﴿ایک بیاض ﴾ لکھی گءی ہے۔ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس بیاض کے مرتب کون ہیں۔

اگرچہ یہ مختصر رسالہ حضرت صاحب موصوف قدس سرہ کے جملہ کمالات و فیوض و برکات و تعلیمات و ارشادات وغیرہ کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی ان کے علوم و اسرار حالات و واردات کشف و کرامات وغیرہ کا مکمل خزانہ ہے تاہم آپ کی صیح تیلیمات کی طرف رہنماءی کرنے والا اور آپ کی روحانی تربیت کا خلاصہ ضرور ہے اور اذالم یدرک کلہ لم یترک کلہ کے مصداق اب اس کے علاوہ کوءی چارہ نہیں کہ اس کو نءی ترتیب کے ساتھ دوبارہ طبع کرا کر ہدیہ ناظرین کیا جاءے۔ تاکہ تشنگان بارگاہ فضلیہ آپ کے فضاءل و کمالات کی کچھ چاشنی حاصل کر کے اپنے پیاسے دلوں کو تسکین دے سکیں اور آپ کے منتسبین کے دلوں میں آپ کی یاد تازہ ہو کر آپ کے فیوضات کے چشموں سے سیرابی حاصل کرنے کی تمنا پیدا ہو جاءے۔

چونکہ شد خورشید و مارا کرد داغ ______ چارہ نبود نور جوءیم از چراغ

آخر میں حضرت صاحب موصوف قدس سرہ کے منتسبین و با خبر حضرات کی خدمت میں با ادب التماس ہے کہ جہاں کوءی غلطی نظر آءے اس کی نشاندہی اور اصلاحفرما کر اس عاجز کو مطع فرماءیں اور جو حالات اس میں درج نہیں ہو سکے انھیں تحریر فرما کر اس عاجز کو روانہ فرماءیں تا کہ آءندہ ایڈیشن میں اس کی اصلاح و اضافہ ہو کر زیادہ صحت و تکمیل کے ساتھ شاءع ہو سکے یا کوءی صاحب خود ہی اس کا اہتمام کر کے شاءع کرا دیں کیونکہ مقصد اشاعت سلسلہ و تبلیغ دین اور افادہ عامتہ المسلمین ہے۔ نیز قارءین کرام سے درخواست ہے کہ اس عاجز ، حضرت کلیم ﷲ شاہ صاحب مدضلہ العالی و حاجی محمد اعلیٰ صاحب کاتب اور اس کتاب کی طباعت و اشاعت میں سعی کرنے اور حصہ لینے والے جملہ حضرات کے حق میں دعاءے خیر فرمایں ۔

چہ عجب گربدہی اشک مرا حسن قبول ______ اے کہ در ساختہ قطرہ بارانی را

الہی مقصود ماتوءی و رضاءے تو ، مارا محبت و معرفت خودبدہ ۔ الہی ماراآں بدہ کہ بدوستان خود دادہ ، الہی از تو ترا میخواہم

احب الصالحین و است منھم

لعل ﷲ یرزقنی الصلاح

سید زوار حسین عفی عنہ
۷ صفر المظفر ١۳۹۳ ھ



مساﺋل كا حل و رابطه
help@miskeenpur.org
info@miskeenpur.org
web@miskeenpur.org

١ـ اسلام

٢ـ امام اعظم ! امام ابو حنيفه

٣ـ تصوف ـ و اهل تصوف
٤ـ سلاسل اربع
نقشبنديه٬ قادريه٬ چشتيه٬ سهرورديه

٥ـ ضرورت صحبت شيخ

٦ـ ذكر قلبى٬ ذكر خفى كا طريقه

٧ـ فضيلت ذكر خفى

٨ ـ درس ادب

٩ـ مكتوبات
امام ربانى مجدد الف ثانى صاحب

١٠ـ اصلاح المسلمين

١١ـ ختم جميع خواجگان نقشبنديه

١٢ـ تعارف مشاءيخ
نقشبنديه٬ قادريه٬ چشتيه٬ سهرورديه

١٣ ـ نصيحت